اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشری ٹربیونل کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل کی تشکیل نو کے لیے وزارت قانون کا 18 مارچ کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل کے جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ٹریبونل نے فیصلہ جاری کیا۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 13 مارچ کو جس اپیل کا فیصلہ محفوظ کیا گیا اس میں متفرق درخواست ٹریبونل کے لیے نامزد ججز کے پاس مقرر کی گئی، قائم مقام چیف جسٹس کی جانب سے نامزد کیے گئے ساتھی ججز کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے۔ ٹربیونل نے فیصلے میں کہا گیا ہے قائم مقام چیف جسٹس آفس کے سٹاف کا اصرار ہے کہ اپیلوں میں محفوظ کیے گئے فیصلوں کی فائلیں واپس کی جائیں، تاکہ وہ نئے ٹریبونل کے ممبرز کے سامنے رکھی جا سکیں۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کے پاس ایسی ہدایات جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں، ٹریبونل کی تشکیل کے بعد قائم مقام چیف جسٹس کے پاس مداخلت کا کوئی اختیار نہیں، ٹریبونل کی موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس کو نئے ججز کو ٹریبونل کا ممبر نامزد کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ٹریبونل ممبرز کو ہائی کورٹ کے ججز کی طرح نا ایسے ہٹایا جا سکتا ہے اور نا دائرہ اختیار سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اختلاف نہ ہونے کے باعث اس کی تشکیل نو کی بھی ضرورت نہیں، وفاقی حکومت اور صدر کے پاس بھی ٹریبونل کی تشکیل نو کا اختیار نہیں تا وقتیکہ کوئی آسامی خالی نا ہو۔جسٹس خادم حسین سومرو کی سربراہی میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کو ٹریبونل ممبر بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قائم مقام چیف جسٹس اسلام ا باد کی تشکیل نو ٹریبونل کی کے پاس
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :