اسرائیلی سپریم کورٹ نے نیتن یاہو کا انٹیلیجنس سربراہ کی برطرفی کا حکم معطل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کا داخلی انٹیلیجنس اینجسی شین بیت کے سربراہ کو برطرف کرنے کا حکم معطل کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی شِن بیت کے سربراہ کو برطرف کرنے کا وزیر اعظم حکم اگلی سماعت تک معطل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے داخلی انٹیلیجنس ایجنسی شین بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کردیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، 59 فلسطینی شہید، واحد کینسر اسپتال تباہ
اسرائیلی کابینہ نے نیتن یاہو کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ شین بیت کے سربراہ نے فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو 7 اکتوبر2023 کو حملے روکنے میں ناکامی کی تحقیقات سے بچنا چاہتے ہیں۔ اپنا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے وزیراعظم مجھے ہٹا کر اپنے خاص بندے کو سیز فائر مذاکرات کے لیے بٹھانا چاہتے ہیں۔
انٹیلجنس ایجنسی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات تو کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت میں جنگ بندی نہیں چاہتے۔ انٹیلیجنس سربراہ کی برطرفی سمیت حملے روکنے میں ناکامی پر نیتن یاہو کے خلاف پورے اسرائیل میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو کے سربراہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔