عوام کیلئے اہم اقدام، عیدالفطر پر ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو سفری سہولیات میں آسانی اور اضافی کرایوں سے بچانے کیلئے عیدالفطر پر ٹرانسپورٹ افسروں کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے عملے کی عیدالفطر کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ عوام کو عیدالفطر پر سفری سہولیات میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے گی، عید کے دوران اضافی کرایہ وصول کرنے کی شکایات عام ہوتی ہیں، کوئی بھی شہری اضافی کرایہ ادا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے صوبے میں ٹرانسپورٹ افسران اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
بانی کی رہائی؛ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو عید سے پہلے خوشخبری سنا دی
یاد رہے کہ گزشتہ روز سندھ حکومت نے بھی عیدالفطر کی چھٹیوں کا اعلان کیا، اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 31 مارچ سے 2 اپریل تک سرکاری و نیم سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔