کینیڈا کے وزیراعظم کا پارلیمنٹ تحلیل کرکے نئے الیکشن کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
اٹاوہ: کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے 28 اپریل کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے نئے الیکشن کرانے کا اعلان کردیا۔ اس مقصد کے لیے وزیرِاعظم مارک کارنی نے باضابطہ طور پر گورنر جنرل سے ملاقات بھی کی ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہا ہے اور ایسے وقت میں عوام کا مضبوط مینڈیٹ ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ٹرمپ کی غیرمنصفانہ تجارتی پالیسیوں اور ہماری خودمختاری کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک نئی اقتصادی پالیسی کی ضرورت ہے جو نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کرے بلکہ کینیڈا کو زیادہ محفوظ بھی بنائے، ہمارا جواب ایک مستحکم معیشت اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد مارک کارنی کو لبرل پارٹی کا نیا رہنما منتخب کیا گیا تھا اور 14 مارچ کو انہوں نے اپنی کابینہ کے ہمراہ بطور وزیرِاعظم حلف اٹھایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: مارک کارنی
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔