Islam Times:
2026-07-24@13:46:54 GMT

نبیل گبول نے جامعہ کراچی کی اراضی پر ملکیت کا دعوی کردیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT

نبیل گبول نے جامعہ کراچی کی اراضی پر ملکیت کا دعوی کردیا

جامعہ کراچی نے جواب میں مؤقف دیا کہ 1954ء سے 1962ء کے درمیان زمین الاٹ کی گئی تھی اور یونیورسٹی کے پاس کوئی اضافی زمین موجود نہیں ہے۔ تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے پیش کیے گئے جواب میں کسی عہدیدار کے دستخط شامل نہیں تھے اور زمین سے متعلق کوئی مستند دستاویزات بھی پیش نہیں کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کی اراضی کے تنازع سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کی درخواست پر بورڈ آف ریونیو سے تین ہفتوں میں ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔ سندھ ہائیکورٹ میں جامعہ کراچی کی اراضی کے تنازع سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کی جامعہ کراچی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جامعہ کراچی نے نبیل گبول کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ نبیل گبول نے قبضہ خالی کرانے کے لیے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو درخواست دی تھی، جسے بعد میں مختیار کار گلزار ہجری کو بھیجا گیا۔ 

جامعہ کراچی نے جواب میں مؤقف دیا کہ 1954ء سے 1962ء کے درمیان زمین الاٹ کی گئی تھی اور یونیورسٹی کے پاس کوئی اضافی زمین موجود نہیں ہے۔ تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے پیش کیے گئے جواب میں کسی عہدیدار کے دستخط شامل نہیں تھے اور زمین سے متعلق کوئی مستند دستاویزات بھی پیش نہیں کیے گئے۔  درخواست گزار کے مطابق ریونیو ریکارڈ میں مذکورہ اراضی ان کے اور ان کی بہن کے نام پر درج ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ریونیو افسران، کمشنر کراچی اور دیگر حکام کو زمین کے سروے اور حد بندی (ڈیمارکیشن) کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے بورڈ آف ریونیو سے تین ہفتوں میں ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جامعہ کراچی کی نبیل گبول جواب میں کیے گئے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی