اقلیتوں سے بدترسلوک:امریکی کمیشن کی پاکستانی حکام و سرکاری اداروں اور بھارتی ’’را ‘‘ پر پابندیوں کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ( یو ایس سی آر ایف) نے اقلیتوں کے ساتھ بدترسلوک پر پاکستانی حکام اور سرکاری اداروں جبکہ بھارت کی جاسوس ایجنسی ’ را ’ پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کردی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مذہبی آزادی سے متعلق امریکی پینل ’ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ’ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک بدتر ہوتا جا رہا ہے، کمیشن نے پاکستان کے حکام اور سرکاری ایجنسیوں پر پابندیاں عائد کرنے ، اور بھارت کی بیرونی جاسوسی ایجنسی ( را ) پر سکھ علیحدگی پسندوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازشوں میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ کمیشن ایک دو طرفہ امریکی حکومتی مشاورتی ادارہ ہے جو بیرون ملک مذہبی آزادی کی نگرانی کرتا ہے اور پالیسی سفارشات پیش کرتا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2024 میں، پاکستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات بدستور خراب ہوتے رہے۔
مذہبی اقلیتی برادریاں – خاص طور پر عیسائی، ہندو اور شیعہ(مسلمان)اور (احمدی) – پاکستان کے سخت توہین رسالت قانون کے تحت ظلم و ستم اور مقدمات کا بوجھ برداشت کرتی رہیں اور پولیس اور عوام دونوں کی طرف سے تشدد کا شکار ہوتی رہیں، جبکہ اس طرح کے تشدد کے ذمے دار افراد کو شاذ و نادر ہی قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات نے خوف، عدم برداشت اور تشدد کے بدتر مذہبی اور سیاسی ماحول کو فروغ دیا۔
یو ایس سی آئی آر ایف کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ توہین رسالت کے الزامات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہجوم کے تشدد کی وجہ سے پاکستان میں مذہبی اقلیتی برادریاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ رپورٹ میں اس توہین رسالت کے کئی واقعات بھی درج کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ احمدی برادری کے خلاف ’ پر تشدد حملے اور منظم ہراسانی’ پورے سال جاری رہی جس کے نتیجے میں کل چار اموات ہوئیں۔
ایک اور مسئلہ جس پر روشنی ڈالی گئی وہ ملک کی مسیحی اور ہندو خواتین اور لڑکیوں میں ’ جبری تبدیلی مذہب کا بدتر ہوتا ہوا رجحان’ تھا۔
کمیشن نے سفارش کی کہ امریکی انتظامیہ ’ مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار پاکستانی عہدیداروں اور سرکاری ایجنسیوں پر ہدفی پابندیاں عائد کرے’۔ ادارے نے مخصوص مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے پاکستانی عہدیداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور/یا انسانی حقوق سے متعلق مالی اور ویزا حکام کے تحت امریکا میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
پینل نے سفارش کی کہ پاکستان کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت بیان کردہ ’ مذہبی آزادی کی منظم، جاری اور سنگین خلاف ورزیوں’ میں ملوث ہونے پر ’ خاص تشویش والے ملک’ کے طور پر دوبارہ نامزد کیا جانا چاہیے۔
پینل نے مزید تجویز دی کہ امریکی حکومت کو آئی آر ایف اے کے سیکشن 405 کے تحت پاکستان کے ساتھ ایک پابند معاہدہ کرنا چاہیے تاکہ مذہب یا عقیدے کی آزادی کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
ان اقدامات میں توہین رسالت کے قیدیوں اور مذہب یا عقائد کی وجہ سے قید دیگر افراد کو رہا کرنا؛ توہین رسالت اور احمدی مخالف قوانین کو منسوخ کرنا، اور جب تک ایسی منسوخی نہ ہو، توہین رسالت کو قابل ضمانت جرم بنانے کے لیے اصلاحات نافذ کرنا، مدعیوں کی طرف سے ثبوت طلب کرنا، سینئر پولیس افسران کے ذریعہ مناسب تحقیقات کروانا، اور حکام کو بے بنیاد الزامات کو مسترد کرنے کی اجازت دینا؛ جھوٹی گواہی اور جھوٹے الزامات کو جرم قرار دینے والے موجودہ ضابطہ فوجداری کے مضامین کو نافذ کرنا اور ان افراد کو جوابدہ ٹھہرانا جو تشدد، ٹارگٹ کلنگ، جبری تبدیلی مذہب اور دیگر مذہبی بنیاد پر جرائم پر اکساتے یا ان میں حصہ لیتے ہیں۔
پاکستان کو آخری بار جنوری 2024 میں ’ خاص تشویش والا ملک’ نامزد کیا گیا تھا، جبکہ بھارت کو نہیں۔
دریں اثناءرپورٹ میں بھارت کے بارے میں کہا گیا کہ 2024 میں، بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات بدستور خراب ہوتے رہے کیونکہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملے اور امتیازی سلوک میں اضافہ جاری رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران ’مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کی اور غلط معلومات پھیلائیں۔
بھارت نے آج اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’ جانبدار اور سیاسی طور پر محرک اندازوں’ کے سلسلے کا حصہ قرار دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا، ’ یو ایس سی آئی آر ایف کی طرف سے خال خال واقعات کو غلط انداز میں پیش کرنے اور بھارت کے متحرک کثیر الثقافتی معاشرے پر نازیبا تبصرے کرنے کی مسلسل کوششیں مذہبی آزادی کے لیے حقیقی تشویش کے بجائے ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔’
واشنگٹن نے ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں مشترکہ خدشات کے پیش نظر بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں، واشنگٹن نے انسانی حقوق کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔
2023 سے، امریکا اور کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسندوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا بھارتی عمل امریکا-بھارت تعلقات میں ایک رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے، واشنگٹن نے ایک ناکام سازش میں سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر، وِکاش یادو پر فرد جرم عائد کی ہے۔دوسری جانب بھارت سکھ علیحدگی پسندوں کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے اور اس نے سکھ علیحدگی پسندوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
مود ی نے گزشتہ سال اپریل میں مسلمانوں کو ’ درانداز’ قرار دیا تھا جن کے ’ زیادہ بچے’ ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹس میں حالیہ برسوں میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا گیا ہے۔ نئی دہلی ان رپورٹس کو ’ انتہائی جانبدار’ قرار دیتا ہے۔
نریندر مودی، جو 2014 سے وزیر اعظم ہیں، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی پالیسیاں تمام برادریوں کی مدد کرتی ہیں جیسے بجلی کی فراہمی کی مہمات اور سبسڈی اسکیمیں۔
انسانی حقوق کے علمبردار اس کے جواب میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، ایک شہریت کا قانون جسے اقوام متحدہ نے’ بنیادی طور پر امتیازی“’ قرار دیا، تبدیلی مذہب مخالف قانون جسے ناقدین عقیدے کی آزادی کو چیلنج کرنے والا کہتے ہیں، مسلم اکثریتی بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، اور مسلمانوں کی ملکیت والی املاک کی مسماری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو ’ خاص تشویش والے ملک’ کے طور پرنامزد کرے اور یادو اور بھارت کی ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ (را) جاسوسی سروس کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرے۔ تاہم، یہ امکان نہیں ہے کہ امریکی حکومت ’ را ’ پر پابندیاں عائد کرے گی کیونکہ وہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی ا زادی مذہبی ا زادی کی پابندیاں عائد امریکی حکومت خلاف ورزیوں توہین رسالت ا ئی ا ر ایف اقلیتوں کے یو ایس سی ا رپورٹ میں اور بھارت کی حکومت سفارش کی کی سفارش میں کہا کے خلاف کرنے کی کے ساتھ کے لیے کے تحت
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :