انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کے وفد کی برطانوی ای سی سی ٹِس حکام سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
فوٹو بشکریہ فیس بُک اکاؤنٹ
انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستانی طلبہ کو برطانیہ میں داخلے سے قبل فاؤنڈیشن کورس کرنا پڑتا ہے، امید ہے گریڈ 12 جَلد برطانیہ کے لیول 3 کے برابر تسلیم کیا جائے گا۔
انٹربورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کے وفد کی انگلینڈ میں برطانوی ای سی سی ٹِس حکام سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں پاکستانی تعلیمی اسناد کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے پر بات چیت کی گئی۔
پاکستان کے گریڈ 12 کو برطانیہ کے یونیورسٹی انٹری فریم ورک سے ہم آہنگ کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
ملاقات میں گریڈ 12 کو یوکے کے لیول 3 کے مساوی قرار دینے کی کوشش کے تحت آئی بی سی سی وفد کی جانب سے ای سی سی ٹِس کو جامع دستاویزات بھی فراہم کی گئیں۔
آئی بی سی سی وفد نے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستانی طلبہ براہِ راست برطانوی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔