پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وائلد لائف کے تحفظ کی جانب اٹھایا گیا اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہدایت پر جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت پر سخت کریک ڈاؤن جاری ہے اور محکمہ وائلڈ لائف جنگلی حیات کی غیر قانونی ٹرانسپورٹ اور تجارت کی روک تھام کے لیے متحرک ہے۔
مزید پڑھیں: محکمہ وائلڈ لائف ٹیم کا لاہور میں چھاپہ، بغیر لائسنس گھر میں رکھا گیا شیر برآمد، ملزم گرفتار
صوبہ بھر میں کے لاڑی اڈوں پر مختلف اضلاع سے آنے والی پپلک ٹرانسپورٹ کی رات گئے چیکنگ کے دوران وائلڈ لائف ٹیم تونسہ نے رات گئے 180 بٹیروں کی غیر قانونی ٹرانسپورٹیشن پکڑ لی۔ لکڑی کے 12 ڈبوں میں بند کرکے بٹیروں کی منتقلی کی جارہی تھی۔
مزید پڑھیں: بندروں کا عالمی دن: محکمہ وائلڈ لائف کی فارسٹ منکی کے تحفظ کے لیے تعاون کی اپیل
بیٹرے ضبط کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ تمام لاڑی اڈوں پر مانیٹرنگ و چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وائلد لائف کے تحفط کی جانب قدم اٹھایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بٹیر جنگلی حیات مریم نواز شریف وائلد لائف وزیر اعلیٰ پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بٹیر جنگلی حیات مریم نواز شریف وائلد لائف وزیر اعلی پنجاب جنگلی حیات وائلڈ لائف کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔