بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل، تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
پنجاب میں کئی ہفتوں سے جاری خشک موسم کے بعد بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہو گیا ہے جس کے باعث مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق اس سسٹم کے تحت آج گجرانوالہ، راولپنڈی اور سرگودھا ڈویژن میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے، جو موسم کو خوشگوار بنانے میں مدد دے گی گزشتہ کچھ دنوں سے صوبے میں دن کے اوقات میں گرمی اور خشکی کا راج تھا جبکہ راتیں قدرے ٹھنڈی محسوس کی جا رہی تھیں تاہم نئے بارش کے سسٹم کے تحت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے سے درجہ حرارت میں کمی آئے گی اور شہریوں کو گرمی سے کچھ راحت ملے گی موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے لیکن کچھ علاقوں میں بادل بغیر برسے ہی گزر جائیں گے لاہور کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں بادلوں کا بسیرا تو رہے گا اور سورج کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، تاہم بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے برعکس دیگر شہروں میں بارش سے درجہ حرارت میں کمی ہوگی اور موسم خوشگوار ہونے کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری تک جا سکتا ہے پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی درجہ حرارت میں معمولی کمی دیکھنے کو ملے گی جس سے کچھ ہفتوں سے جاری خشک موسم کا خاتمہ ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔