سیالکوٹ میں یونیورسٹی کی طالبات کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک)سیالکوٹ میں یونیورسٹی کی طالبات کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج۔نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے جمعہ کو سیالکوٹ میں ایک وین کو روکنے اور یونیورسٹی کی طالبات کو ہراساں کرنے والے 5ملزمان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔
ایف آئی آر کے مطابق 3 موٹرسائیکلوں پر سوار 5 ملزمان نے وین پر حملہ کیا اور اس کی ونڈ اسکرین کو نقصان پہنچایا اور ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا جس کی شناخت بعد میں حمزہ کے نام سے ہوئی۔پولیس نے واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے والے 4 ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنا شروع کر دیے۔
دوسری جانب گرفتار ملزمان کا کہنا تھا کہ غلط کراسنگ پر موٹر سائیکل سواروں اور وین ڈرائیور کے درمیان جھگڑا ہوا اور طالبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور ہراساں کیا۔مزید تفتیش جاری تھی۔
مودی سرکارکی مسلمان دشمنی، کھلی جگہوں پرنمازعید کی ادائیگی پرپاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: طالبات کو
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔