امریکہ کی جانب سے بھارتیوں کی ہزاروں ویزا درخواستیں منسو خ ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
امریکہ نے بھارت میں دو ہزار سے زائد ویزا درخواستیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن اور ویزا پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق، بھارت میں ویزا اپوائنٹمنٹ کے نظام میں دھوکہ دہی اور بدنظمی کے شواہد ملے، جس میں بوٹس اور دیگر ”بدنیت عناصر“ شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں سفارت خانے نے ان مشتبہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا اور ان کے ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر دیے۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا، ’قونصلر ٹیم انڈیا تقریباً 2,000 ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر رہی ہے جو بوٹس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ہم ایسے ایجنٹس اور افراد کے لیے زیرو ٹالرنس رکھتے ہیں جو ہمارے شیڈولنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان تمام اپوائنٹمنٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے اور متعلقہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا ہے۔‘
بھارت میں امریکی ویزا درخواست گزار پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر ”B1“ (کاروباری) اور ”B2“ (سیاحتی) ویزا کے امیدواروں کو کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 2022-23 میں ویزا کے لیے انتظار کا وقت 800 سے 1,000 دن تک جا پہنچا تھا۔
اس طویل انتظار کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے امریکہ نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ اور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹس کی سہولت فراہم کی تھی۔
بھارتی حکومت کئی بار اس طویل انتظار کے مسئلے پر واشنگٹن سے شکایت کر چکی ہے۔ 2022 میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن سے اس معاملے پر بات کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس تاخیر کی بڑی وجہ ”COVID-19“ وبا کو قرار دیا تھا۔
رواں سال جنوری میں، جب جے شنکر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا، تو انہوں نے بلنکن کے جانشین، مارکو روبیو، سے اس مسئلے پر دوبارہ بات کی۔
ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے علاوہ، مجموعی طور پر ویزا کی منظوری کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، جس سے خاص طور پر بھارتی طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اب ویزا درخواستوں میں دھوکہ دہی کے انکشاف کے بعد، امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔