تمام دوست ممالک سے تجارت، سرمایہ کاری میں مزید تعاون چاہتے ہیں: صدر
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تمام دوست ممالک کے ساتھ کاروباری اور سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید تعاون کا خواہاں ہے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار مراکش، سوئٹزر لینڈ اور فلپائن کیلئے پاکستان کے نامزد سفراء سے یہاں الگ الگ ملاقات کے دوران کیا۔ صدر مملکت سے مراکش کیلئے پاکستان کے نامزد سفیر سیدعادل گیلانی، سوئٹزر لینڈ کیلئے پاکستان کے نامزد سفیر ڈاکٹر مرغوب سلیم بٹ نے ملاقات کی۔ صدر مملکت سے فلپائن کیلئے پاکستان کی نامزد سفیر ڈاکٹر عاصمہ ربانی نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا نامزد سفراء میزبان ممالک کے ساتھ تجارتی، معاشی، سیاسی اور سفارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے کام کریں۔ انہوں نے نامزد سفراء کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پرمبارکباد دی اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی انشورنس محتسب ممتاز علی شاہ نے ملاقات کی۔ وفاقی انشورنس محتسب نے صدر مملکت کو ادارے کی سالانہ رپورٹ 2024ء پیش کی۔علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے ملاقات کی اور ادارے کی رپورٹ برائے سال 2024 پیش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیلئے پاکستان ملاقات کی صدر مملکت
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔