ملک بھر میں نماز عید الفطر کے روح پرور اجتماعات
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
ملک بھر میں عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے۔
شہر شہر مساجد اور عید گاہوں میں نماز کے چھوٹے بڑے روح پرور اجتماعات ہوئے، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی، امت مسلمہ اور ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں نے گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہوکر مبارکباد دی۔
اسلام آباد کی فیصل مسجد، لاہور کی بادشاہی مسجد، کراچی کے پولو گراؤنڈ میں نماز عید کا مرکزی اجتماع ہوا، جس میں اہم حکومتی اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
گورنر ہاؤس سندھ میں بھی نماز عید ادا کی گئی جس میں گورنر کامران ٹیسوری، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور دیگر شریک ہوئے، پولو گراونڈ کراچی میں بھی نماز عید ادا کی گئی، جس میں مئیر کراچی سمیت اہم سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
کراچی بھر میں مجموعی طور پر 4 ہزار سے زائد چھوٹے اور بڑے نماز عید کے اجتماعات ہوئے، جہاں لاکھوں مسلمانوں نے یکجا ہو کر عید کی نماز ادا کی۔
شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کر دی گئی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد، سکھر، مردان، سبی، مری، گلگت، سرگودھا، بہاولپور، جھنگ سمیت دیگر بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھی عید الفطر کی نماز کے اجتماعات ہوئے جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
نماز عید کی ادائیگی کے بعد بیشتر شہریوں نے قبرستانوں کا رخ کیا اور اپنے مرحومین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے شرکت کی عید الفطر میں بھی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک