سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی شادی کے بعد پہلی عید، ویڈیوز وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
ممبئی: بولی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا اور ان کے شوہر ظہیر اقبال نے اپنی شادی کے بعد پہلی عید جوش و خروش سے منائی۔ یہ دن ان کے لیے ایک خاص سنگ میل ثابت ہوا، جسے انہوں نے محبت، خوشی اور اسٹائل کے ساتھ منایا۔
اداکار جوڑے کو عید کے موقع پر ایک دوست کے گھر جاتے دیکھا گیا، جہاں انہوں نے عید کی خوشیاں اپنوں کے ساتھ بانٹیں۔ انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی پاپارازی ویڈیوز میں دونوں کا دلکش انداز نمایاں تھا، جہاں انہوں نے میڈیا کو عید کی مبارکباد بھی دی۔
سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی جوڑی ہمیشہ مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔ اس خاص موقع پر ظہیر نے سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں اپنی شخصیت کو نمایاں کیا، جبکہ سوناکشی آل بلیک ڈریس میں شاندار نظر آئیں۔ ان کی خوشگوار مسکراہٹ اور خوش مزاجی نے مداحوں کے دل جیت لیے۔
عید کی تقریب کے دوران سوناکشی نے نہ صرف عید کی مبارکباد دی بلکہ گڑی پڑوا کے تہوار پر بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کی اس محبت بھری ادا کو مداحوں نے خوب سراہا۔
View this post on InstagramA post shared by F I L M Y G Y A N (@filmygyan)
ظہیر اور سوناکشی، جنہوں نے گزشتہ سال شادی کی تھی، اپنی محبت بھرے لمحات اور خوشگوار زندگی کے باعث مداحوں کے پسندیدہ جوڑوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عید کی
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی