عید الفطر پر صفائی کے بہترین انتظامات کیلئے خصوصی پلان مرتب
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
بسام سلطان :عید الفطر کے موقع پر شہر لاہور میں شاندارصفائی کے انتظامات،چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی ملک بلال ذوالفقار کھوکھر نےمختلف علاقوں کے دورے کیے۔
تفصیلات کے مطابق سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی بابر صاحب دین نے بھی مختلف علاقوں کے دورے کیے،ملک بلال ذوالفقار اور بابر صاحب دین کی سینٹری ہیروز سے ملاقات کی عیدی اورمٹھائی تقسیم کی۔
ایل ڈبلیو ایم سی صفائی ورکرز اور افسران عید کے روز بھی فیلڈ میں متحرک ہیں،1500سے زائد عید گاہوں اور جامع مساجد پر صفائی کے مثالی انتظامات کئے گئے،عید گاہ جانے والے راستوں پر پانی کا چھڑکاو اور چونے لگا کر سجایا گیا،268سے زائد قبرستانوں کے گرد بھی خصوصی صفائی ٹیمیں تعینات کی۔
کرشمہ کیور کو لولو اور کرینہ کو بیبو کیوں کہتے ہیں؛ لولو نے خوبصورت وجہ خود بتادی
ملک بلال ذوالفقار کھوکھر نے کہا کہ شہریوں کو بہترین صفائی سہولیات مہیا کر رہے ہیں،عیدالفطر پر 15 ہزار ورکرز، 1400 سے زائد گاڑیاں تینوں شفٹوں میں تعینات کیے ہیں۔
بابر صاحب دین نے بتایا کہ عید صفائی آپریشن کی ڈیجیٹل نگرانی سینٹرل کنٹرول روم میں کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔