ملاقات کے دوران عمران خان اور بشری بی بی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے، رہنما پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما نادیہ خٹک نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے اور وہ دونوں بلکل ٹھیک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات ختم ہوگئی، اعظم خان سواتی، نادیہ خٹک اور مبشر اعوان ملاقات کرکے واپس آگئے۔
جیل کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خٹک نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کانفرنس روم میں اکھٹے بیٹھے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملاقات کی بانی پی ٹی آئی نے ٹراوزر شرٹ پہن رکھی تھی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے۔
نادیہ خٹک نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی بلکل ٹھیک تھے،
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور بشری بی بی بانی پی ٹی آئی نادیہ خٹک
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔