ٹک ٹاکر مناہل ملک کی ایک اور نازیبا ویڈیو لیک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)عمرے سے واپسی کے بعد نئی لیک ویڈیو نے طوفان برپا کردیا،لاکھوں فالوورز والی ٹک ٹاک سینسیشن مناہل ملک ایک بار پھر متنازعہ ویڈیو لیک کے طوفان میں گھر گئی ہیں۔
رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنے اور عید منانے کے بعد اب ان کی ایک اور نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس نے صارفین میں اشتعال کو جنم دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب مناہل کے نام سے منسوب فحش مواد نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچائی ہو۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایسی ہی کئی ویڈیوز نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد انہوں نے عارضی طور پر سوشل میڈیا چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
موجودہ واقعے پر مناہل نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ یہ تمام ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی جعلی مواد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں نے FIA میں اس سلسلے میں شکایت درج کرا دی ہے اور امید ہے کہ مجرمان جلد ہی قانون کے شکنجے میں آجائیں گے۔‘‘
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف تو صارفین نجی زندگی کی خلاف ورزی پر سخت برہم ہیں، وہیں دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اس واقعے نے ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی کے تحفظ، آن لائن مواد کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا اسکینڈلز کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات جیسے اہم مسائل کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نوجوان نسل کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
مناہل ملک کے مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے، خاص طور پر اس وقت جب وہ مذہبی سفر سے واپس آئی ہیں۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس واقعے کو ’’ڈیجیٹل ہراسانی‘‘ کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام، یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین برطرف
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ہے کہ یہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔