یہودیوں کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا، تلمودی رسومات ادا کیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار کے قریب یہودی آباد کاروں نے قبلہ اول میں گھس کرمقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔ یہودی آباد کاروں کے یہ تجاوزات انتہاپسند گروپوں کی اپیل پر کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں درجنوں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کی فول پروف سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اس موقعے پر آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض پولیس کی فول پروف سکیورٹی میں درجنوں یہودی آباد کاروں، اسرائیلی طلبا اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت ایک سو کے قریب انتہا پسندوں نے قبلہ اول میں گھس کر اشتعال انگیز چکر لگائے۔
مجموعی طور پر گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار کے قریب یہودی آباد کاروں نے قبلہ اول میں گھس کرمقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔ یہودی آباد کاروں کے یہ تجاوزات انتہاپسند گروپوں کی اپیل پر کیے گئے، جنہوں نے یہودیوں کی مذہبی رسومات کے موقعے پر مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر تلمودی تعلیمات کے مطابق رسومات کی ادائیگی پر زور دیا تھا۔ خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے کے دن کے علاوہ ہفتے کے باقی ایام میں یہودی آباد کار دن میں دو بار مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات اور حرکات انجام دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یہودی ا باد کاروں ا باد کاروں نے قبلہ اول کے مطابق میں گھس
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔