علی امین گنڈا پور کے بیانات سے عمران خان کی تحریک کو نقصان پہنچے گا: شہرام خان ترکئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
---فائل فوٹو
تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی کے ایسے بیانات سے بانیٔ پی ٹی آئی کی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرکزی قیادت سے مطالبہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
شہرام ترکئی کا کہنا ہے کہ ہماری توجہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بے گناہ قیدیویں کی رہائی پر ہونی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام ترکئی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی حکومت پر لوگ ہنس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ اپنی توانائیاں امن و امان کی بحالی اور گڈ گورننس پر مرکوز رکھیں۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈا پور نے گزشتہ روز پارٹی کے بعض رہنماؤں پر سازشوں کا الزام لگایا تھا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بیانات پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی اور کور کمیٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے معاملے کو بانیٔ پی ٹی آئی کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی قائدین نے واٹس ایپ گروپ میں مؤقف دیا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے غیر ذمے دارانہ بیانات دیے، علی امین کو ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق غیر ذمے دارانہ بیانات نہیں دینے چاہیے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین نے سیاسی و کور کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی و کور کمیٹی اجلاس میں علی امین کے بیانات پر ارکان مشاورت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔