صدر زرداری کی صحت بہتر، کل ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائیگا،ڈاکٹر عاصم حسین
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
صدر سے متعلق آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی گئی ویڈیوز پھیلاکر صحت کی افواہیں پھیلائی گئیں
سیاسی مخالفین جو بات کریں، کسی بھی بات کو ٹوئسٹ کرتے رہیں، افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں
صدر مملکت کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے ، کل یا پرسوں تک انہیں ہسپتال سے رخصت دیے کر گھر بھیج دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ کورونا کا کم اثرات والا ویرینٹ اب بھی پھیل رہا ہے ، سیاسی مخالفین جو بھی بات کریں، کسی بھی بات کو ٹوئسٹ کرتے رہیں، افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں، بھارتی میڈیا ہمارے سوشل میڈیا سے باتیں اٹھاکر مین اسٹریم میڈیا پر پروپیگنڈا کرتا ہے ، اس لیے ہمیں احتیاط کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سے متعلق آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی گئی ویڈیوز پھیلاکر صحت کی افواہیں پھیلائی گئیں، کورونا ابھی بھی پاکستان میں موجود ہے ، اینٹی وائرس دوائیاں اب آگئی ہیں، سوشل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں وہ مناسب نہیں، صدر مملکت کو بلڈ پریشر اور شوگر ہے ۔ذاتی معالج نے کہاکہ صدر مملکت کی صحت بالکل ٹھیک ہے ، آصف زرداری کی ملاقاتوں پر پابندی ہے ، صرف ڈاکٹرز کو ہی ان تک رسائی حاصل ہے ، ماہر ڈاکٹرز کا پینل آصف زرداری کی صحت کو مانیٹر کررہا ہے ۔ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ آصف علی زرداری کے اہل خانہ کو روزانہ کی بنیاد پر صحت سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری کے کورونا میں مبتلا ہونے اور انہیں آئیسولیشن میں رکھنے کی تصدیق کی گئی تھی۔صدر کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا تھا کہ مختلف ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ صدر مملکت کورونا میں مبتلا ہیں، اور انہیں اس وقت آئیسولیشن میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا تھا کہ ماہرین کی ٹیم ان کی دیکھ بھال کر رہی ہے ، اور صدر مملکت کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ صدر مملکت آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں نواب شاہ سے کراچی منتقل کیا گیا تھا، انہیں کلفٹن میں واقع نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں داخل کرلیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عاصم حسین آصف علی زرداری صدر مملکت آصف کہ صدر مملکت ذاتی معالج زرداری کی کی صحت
پڑھیں:
سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔
خود کو وقت دیجئے
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔
متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک
غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے
جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔
مناسب اور پرسکون نیند لیجئے
مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔
مراقبہ اور یوگا کی مشقیں
ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔