ماہر پائلٹ کی برازیل میں مصروف ہائی وے پر لینڈنگ، ویڈیو دیکھیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
برازیل میں ایک چھوٹے طیارے کے پائلٹ نے انجن فیل ہونے پر مصروف ہائی وے پر زبردست اور مہارت کے ساتھ ایمرجنسی لینڈنگ کرکے بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا۔
یہ واقعہ برازیل کی جنوبی ریاست سانتا کیٹارینا کے شہر گارامیریم کے قریب پیش آیا جہاں پائلٹ نے انتہائی مہارت کے ساتھ ٹریفک سے بھرے ہائی وے پر جہاز کو لینڈ کروایا۔
تفصیلات کے مطابق، 29 سالہ پائلٹ میٹیوس رینان کالاڈو اور 71 سالہ کاروباری شخص والمیرو جوز منیلا (جو طیارے کے مالک تھے) کوئٹا پائلٹ تھے۔
سنگل انجن پیلکن 500 بی آر طیارہ ہفتے کے روز دوپہر کے وقت مقامی ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد انجن فیل ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو گیا تھا۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پائلٹ نے بجلی کے تاروں اور گزرتی گاڑیوں سے بچتے ہوئے مصروف ہائی وے پر لینڈنگ کی۔
https://www.facebook.com/reel/2165282177235379
۔ ایک لمحے ایسا لگا کہ طیارہ ایک ٹینکر سے ٹکرا جائے گا، لیکن پائلٹ نے نہ صرف خود کو بلکہ ہائی وے پر موجود گاڑیوں کو بھی محفوظ رکھا۔
حادثے کے بعد طیارے کو ہائی وے سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں اس کے پرزے الگ کرکے ٹرک پر لاد دیے گئے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
یہ منظر دیکھ کر شاہدین حیرت زدہ رہ گئے، کیونکہ پائلٹ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی وے پر پائلٹ نے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔