بجلی کی قیمت میں کمی کے اعلان کے بعد تبدیلی کی افواہیں، ترجمان پاور ڈویژن کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
پاور ڈویژن کے ترجمان ظفریاب خان نے بجلی کی نرخوں میں تبدیلی کی افواہوں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بجلی کے نرخوں میں ریلیف پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق ظفریاب خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بجلی کے نرخوں میں کسی قسم کی تبدیلی کی تردید کی خبریں بے بنیاد اور متضاد ہیں، بعض عناصر جان بوجھ کر بجلی کے نرخوں اور اس کی تکنیکی تفصیلات سے متعلق غلط معلومات پھیلا کر حقائق مسخ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹس حکومت کے سرکاری مؤقف کو غلط انداز میں پیش کرتی ہیں اور اس کا مقصد عوام میں الجھن پیدا کرنا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان درست ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں موسم گرما کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم کے اعلان کے بعد نیپرا نے بغیر کسی تاخیر کے ریلیف پیکیج پر عمل درآمد کے لیے 4 اپریل کو عوامی سماعت کی۔
انہوں نے کہا کہ ریلیف پیکیج کی وفاقی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے اور اس کا اطلاق ملک بھر کی تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر ہوگا۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ یہ ریلیف مہینوں کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جس میں ٹیرف کو کم کرنے کے لیے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب اصل اثر عوام تک پہنچ رہا ہو تو ٹیرف کے زمرے پر بحث غیرضروری ہے، اس بروقت اقدام کے لیے حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کے نرخوں نے کہا کہ اور اس کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔