سانحہ سیاچن گلیشئر کے شہداء کی تیرہویں برسی آج منائی جارہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی)سانحہ سیاچن گلیشئر کے شہداء کی تیرہویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ 7اپریل 2012ء کو سیاچن گلیشئر کے گیاری سیکٹر پربرف کا تودا گرنے سے 129فوجی اور 11سویلین شہید ہوئے تھے۔ سانحہ گیاری کے شہدا ء ناردرن لائٹ انفنٹری بٹالین سے تعلق رکھتے تھے۔
7 اپریل 2012 ء کوسیاچن گلیشئر کے گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹرزپر برفانی تودا آن گرا، برفانی تودے نے تقریباً ایک کلو میٹر کے علاقے کو متاثر کیا۔بٹالین ہیڈ کوارٹر گزشتہ 20 سال سے اسی مقام پر موجود تھا۔ اس علاقے میں پیدل پہنچنا بہت مشکل تھا، سخت موسمی حالات نے امدادی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا لیکن پاک فوج کے باہمت جوانوں نے اس آپریشن کو ممکن کر دکھایا۔
بھارتی اداکار جوڑی نے شادی کے 9 سال بعد راہیں جدا کرلیں
گیاری سیکٹر پر امدادی سرگرمیاں ڈیڑھ سال تک جاری رہیں جس میں امریکہ، جرمنی سمیت کئی ملکی ماہرین کی ٹیموں نے بھی حصہ لیا۔اس سانحے میں ایک سو انتیس آرمی کے افسر اور جوانوں سمیت 140 افراد شہید ہو گئے تھے جن میں سے 114کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ سانحہ گیاری کے بعد ہونے والا تاریخی آپریشن ہمیشہ عزم وہمت کی شاندار مثال رہے گا۔اس دن کی مناسبت سے ہرسال پاک آرمی اورقوم کی جانب سے گیاری سیکٹر کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: گیاری سیکٹر گلیشئر کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔