اسلام آباد (آئی این پی)سانحہ سیاچن گلیشئر کے شہداء کی تیرہویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ 7اپریل 2012ء کو سیاچن گلیشئر کے گیاری سیکٹر پربرف کا تودا گرنے سے 129فوجی اور 11سویلین شہید ہوئے تھے۔ سانحہ گیاری کے شہدا ء ناردرن لائٹ انفنٹری بٹالین سے تعلق رکھتے تھے۔

7 اپریل 2012 ء کوسیاچن گلیشئر کے گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹرزپر برفانی تودا آن گرا، برفانی تودے نے تقریباً  ایک کلو میٹر کے علاقے کو متاثر کیا۔بٹالین ہیڈ کوارٹر گزشتہ 20 سال سے اسی مقام پر موجود تھا۔ اس علاقے میں پیدل پہنچنا بہت مشکل تھا، سخت موسمی حالات نے امدادی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا لیکن پاک فوج کے باہمت جوانوں نے اس آپریشن کو ممکن کر دکھایا۔

بھارتی اداکار جوڑی نے شادی کے 9 سال بعد راہیں جدا کرلیں

گیاری سیکٹر پر امدادی سرگرمیاں ڈیڑھ سال تک جاری رہیں جس میں امریکہ، جرمنی سمیت کئی ملکی ماہرین کی ٹیموں نے بھی حصہ لیا۔اس سانحے میں ایک سو انتیس آرمی کے افسر اور جوانوں سمیت 140 افراد شہید ہو گئے تھے جن میں سے 114کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ سانحہ گیاری کے بعد ہونے والا تاریخی آپریشن ہمیشہ عزم وہمت کی شاندار مثال رہے گا۔اس دن کی مناسبت سے ہرسال پاک آرمی اورقوم کی جانب سے گیاری سیکٹر کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: گیاری سیکٹر گلیشئر کے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی