اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل 8 اپریل کو پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اقتصادی تعاون تنظیم ( ای سی او) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان 8 اپریل کو پاکستان پہنچیں گے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ای سی او کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسد مجید خان 8 سے 10 اپریل 2025 تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دورے کے دوران سیکرٹری جنرل صدر، وزیراعظم، نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ اور دیگر وفاقی وزراء سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں سیکریٹری جنرل ای سی او کے اقدامات اور اپنا اصلاحاتی ایجنڈا پیش کریں گے۔ اسلام آباد کے بعد ڈاکٹر اسد مجید خان لاہور کا دورہ بھی کریں گے۔
مزید پڑھیں: دفترخارجہ نے کانگو میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کردی
ترجمان کے مطابق ڈاکر اسد مجید خان لاہور میں ای سی او کے مستقل نمائندوں کی کونسل کے 294 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 12 سے 14 اپریل تک منعقد ہوگا۔
دوسری جانب آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات مکائیل جباروف 8 اپریل کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات سرمایہ کاری منصوبوں پر معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے۔ دورہ پاکستان کے دوران مکائیل جباروف وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ آذربائیجانی وزیر کی قیادت میں وفد کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے سرمایہ کاری امور پر بات چیت متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔