پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام ملتان میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی عہد شکنی کی گئی، اسرائیل کی طرف سے بمباری، ہسپتالوں، مساجد، اسکولوں اور پناہ گزینوں کیمپوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام ملتان پریس کلب کے سامنے اسرائیلی بربریت، عہد شکنی اور غزہ میں نہتے فلسطینی عوام پر وحشیانہ بمباری کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شہریوں کی بڑی تعداد، سول سوسائٹی، وکلا، طلبا، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم، اسرائیل مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطین کے بچوں کا قتل بند کرو، ظلم کے خلاف آواز بلند کرو، اسرائیل دہشتگرد ہے جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عالمی برادری کی خاموشی پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ مظاہرے کی قیادت حافظ ابو الحسن جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ملتان نے کی۔
مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی عہد شکنی کی گئی، اسرائیل کی طرف سے بمباری، ہسپتالوں، مساجد، اسکولوں اور پناہ گزینوں کیمپوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ ہے۔ ہزاروں بچوں، خواتین اور معصوم شہریوں کی شہادت نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، لیکن بدقسمتی سے مسلم دنیا اور عالمی ادارے محض بیانات تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ فلسطین کے مظلوم عوام کی آواز بنے گی اور ملک گیر تحریک کے ذریعے پوری قوم کو بیدار کیا جائے گا۔ مظاہروں، ریلیوں اور سیمینارز کے ذریعے حکمرانوں، عالمی اداروں اور انسانیت کے علمبرداروں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ اب خاموشی گناہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسرائیل کی طرف سے کے خلاف
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram