معروف اداکار نے جاوید شیخ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کی 'بالی ووڈ خانز' سے ملاقات ہوئی تو وہ تینوں کو ایک نصیحت کرنا چاہیں گے۔

سلمان خان کی فلم 'سکندر' دبنگ اسٹار کی ناکام ترین فلم ثابت ہوئی ہے جس نے توقعات سے نہایت کم بزنس کیا ہے۔

اس سے قبل 2022 میں عامر خان 'لال سنگھ چڈھا' بھی فلاپ ہوگئی تھی اور انھوں نے تب سے کوئی فلم نہیں کی ہے۔

شاہ رخ خان بھی 2018 میں اپنی فلم زیرو کے فلاپ ہونے پر اداکاری کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرچکے تھے تاہم  2023 میں 'پٹھان' اور 'جوان' جیسی فلموں سے کم بیک کیا ہے۔

بالی ووڈ پر دہائیوں تک راج کرنے والے تینوں خانز اب 60 سال کے ہوچکے ہیں ایسے میں جاوید شیخ تینوں کو کچھ نصیحت کرنا چاہتے ہیں۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جاوید شیخ نے کہا کہ میری ان تینوں سے ملاقات کو کافی عرصہ ہوگیا لیکن جب ملاقات ہوئی ایک نصیحت ضرور کروں گا۔

جاوید شیخ نے کہا کہ تینوں خانز اپنی اداکاری میں نئی ورائٹی لانے کی ضرورت ہے اور ہیرو کے لیے علاوہ کردار بھی ادا کرنا چاہیے جیسے امیتابھ بچن کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاوید شیخ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن