ہمیں دہشتگردوں کو ایک نظر سے دیکھتے ہوئے سوچ کا ابہام ختم کرنا ہوگا، سینیئر صحافی احسان ٹیپو محسود
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
سینیئر صحافی اور سیکیورٹی امور کے ماہر احسان ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی دہشتگردی کے خلاف سوچ کے ابہام کو ختم کرکے ایک بیانیہ بنانا ہوگا تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کیا جا سکے۔
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سیکیورٹی امور کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ خراسان ڈائری کے شریک بانی کا کہنا تھا کہ جس طرح ٹی ٹی پی کو دہشتگرد سمجھا جاتا ہے کچھ لوگ اسی شدت سے بی ایل اے کی مذمت کرنے سے ہچکچاتے ہیں حالاں کہ دنیا بھر میں بی ایل اے کو دہشتگرد جماعت سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں گمراہ کیا گیا، بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے 2 اہم دہشتگرد کمانڈرز کے چشم کشا انکشافات
احسان ٹیپو نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والی دہشتگردی کی امریکا اور اقوام متحدہ تک نے مذمت کی مگر کچھ لوگ پاکستان میں اس کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کے ساتھ سختی کی پالیسی اختیار کرنی ہوگی اور قومی سطح پر ابہام کو ختم کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشتگرد افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں، پاکستان
احسان ٹیپو نے توجہ دلائی کہ بارڈر پر سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ اندرونی سلامتی کو بہتر کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے اور اس کے لیے ملک کے تمام اداروں کا کرادر اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اس لیے وہ اپنے حملوں میں شدت لا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احسان ٹیپو محسود افغانستان بی ایل اے ٹی ٹی پی خراسان ڈائری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسان ٹیپو محسود افغانستان بی ایل اے ٹی ٹی پی خراسان ڈائری بی ایل اے ٹی ٹی پی کا کہنا کے ساتھ
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔