وجیہہ سواتی قتل کیس، عدالت نے شوہر کو سخت ترین سزا سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )عدالت نے پراپرٹی تنازع پر امریکی شہریت یافتہ سابقہ بیوی کے قتل کے جرم میں شوہر کو مرتے دم تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھنے کا حکم جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اربوں روپے کی پراپرٹی کے تنازع پر امریکی خاتون کے اغوا اور قتل کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا، جس میں عدالت نے مقتولہ کے سابق شوہر رضوان حبیب کو سزائے موت، 5 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے اغوا کے جرم میں 10 سال قید، 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ اسی طرح کیس کے شواہد مٹانے کے جرم میں7سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی جب کہ شریک ملزم سلطان کو 7 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ، سینیٹ کمیٹی کا چاروں صوبائی وزراءکو بلانے کا فیصلہ
عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت واقع نہ ہو جائے۔عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے وقت امریکی سفارت خانہ کے 3سفارت کار اور ایک ایف بی آئی آفیسر بھی موجود تھے۔ امریکی سفارت کاروں کی جانب سے سزا پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔عدالتی فیصلے کے بعد مجرم سابق شوہر رضوان حبیب کو کڑے پہرے میں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مجرم کا اپنی سابقہ اہلیہ وجیہہ سواتی سے اربوں روپے کی پراپرٹی کا جھگڑا چل رہا تھا۔ تمام پراپرٹی وجیہہ سواتی کی ملکیتی تھی، جس پر ملزم نے جبری قبضہ کر لیا تھا۔ ملزم نے سابق اہلیہ کو راضی نامہ کرنے کا جھانسا دے کر امریکا سے پاکستان بلایا ، جس پر وجیہہ سواتی 16اکتوبر 2021ء کو پاکستان آئی ۔
جمہوریہ ڈومینیکن میں نائٹ کلب کی چھت گرنے سے صوبائی گورنر اور سابق بیس بال کھلاڑی سمیت 98 افراد ہلاک
ملزم سابق شوہر نے پاکستان آتے ہی وجیہہ سواتی کو قتل کیا اور لاش مسخ کر کے راولپنڈی سے خیبر پختونخوا لے جاکر دفنا دی۔ قتل بعد مجرم سابق شوہر خود ہی وجیہہ سواتی کے گم ہونے کا ڈراما کرتا رہا ۔ بعد ازاں پولیس نے گرفتار کیا تو قتل کا راز اگل دیا اور لاش بھی خیبر پختون خوا سے برآمد کروا دی۔مقتولہ کے بیٹے عبداللہ نے امریکا سے آن لائن ایف آئی آر تھانہ مورگاہ میں درج کروائی تھی۔
کیس میں مجرم کو پہلے بھی پھانسی کی سزا ہوئی تھی مگر ہائی کورٹ نے کیس ریمانڈ کر دیا تھا، جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری ماجد حسین گادی نے آج پھر مجرم کو سزا سنا دی۔ اس دوران امریکی ایف بی آئی ٹیم اور سفارتکار ہر تاریخ پر کیس پیروی کرتے رہے ۔
پاکستان کا نئے ٹیرف پر مذاکرات کیلئے وفد امریکا بھیجنے کا فیصلہ
قبل ازیں لاش کو پاکستان سے امریکا منتقل کرنے پر دوبارہ پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا تھا اور امریکی سائنس فرانزک لیبارٹری نے موت وجہ تشدد قرار دے کر رپورٹ پاکستان بھیجی تھی۔ سرکاری پراسیکیوٹر عفت سلطانہ نے کیس کی مقتولہ کی جانب سے پیروی کی تھی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سابق شوہر لاکھ روپے عدالت نے کی سزا
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے