عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کو روکنے کی ضرورت نہیں ، عمران خان خود نہیں ملنا چاہتے: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے، بہت سارے لوگوں سے وہ خود نہیں ملنا چاہتے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ہر ایک کی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے، اِن سے بنی بنائی جماعت بھی نہیں سنبھل رہی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کو بانی پی ٹی آئی سے روکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بہت سارے لوگوں سے وہ خود نہیں ملنا چاہتے، بشریٰ بی بی جس سے چاہتی ہیں بانی پی ٹی آئی اس سے ملتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف میں بانی عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر تقسیم نظر آرہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر کی ملاقات پر پارٹی ارکان کو تشویش ہے، بیرسٹر عمیر نیازی کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا، پارٹی پالیسی اور بانی کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔
گنڈاپور کا پختونخوا کو سب سے امیر صوبہ بنانے کا دعویٰ، بلدیاتی نمائندوں اور اراکین اسمبلی کیلئے فنڈز کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔