سندھ کے تحفظات جائز ہیں : وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کو جوابی خط
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہحیدرآباد - سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے اور اس حوالے سے سندھ کے تحفظات جائز ہیں۔ حیدرآباد - سکھر موٹروے پر وفاق اور سندھ کے درمیان جاری تنازع سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مراد علی شاہ کو آگاہ کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے کو جلد پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایا جائے گا۔خط میں مزید کہا کہ ان کی ذاتی توجہ اور دلچسپی ہے کہ حیدرآباد موٹروے جلد تعمیر ہو، موٹروے پر سندھ کے تحفظات جائز ہیں، سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے حیدر آباد - سکھر موٹروے کو دیگر منصوبوں پر ترجیح نہ دہنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک کراچی سکھر موٹروے شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک تمام منصوبے روکیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کی چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو تحلیل کر دیں اور ہائی ویز صوبوں کے حوالے کر دیں، کراچی سکھر موٹروے کے لیے پیسے نہیں تو لاہور ساہیوال موٹروے پر پیسے کیسے خرچ کر رہے ہیں؟
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 14 جنوری کو وزیراعظم شہباز شریف کو حیدرآباد - سکھر موٹروے کی تعمیر سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اس موٹروے کی تعمیر ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے نہ ہونے سے اندرون ملک ٹریفک کی روانی دشوار ہو گئی ہے۔خط میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے اتحادی حکومت ہوتے ہوئے سندھ کے ساتھ ناانصافیوں کی حد کردی، وفاق این ایچ اے بجٹ کا کُل 38 فیصد پنجاب پر خرچ کرے گا، جب کہ سندھ کے لیے صرف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے 105 منصوبوں میں سندھ کے صرف 6 منصوبے رکھے گئے جب کہ وفاق نے پنجاب کے لیے نیشنل ہائی وے کی طرف سے 33 منصوبے رکھے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ این ایچ اے نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے صرف 6 منصوبے رکھے جس کے لیے 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف موٹروے کی تعمیر مراد علی شاہ کہ حیدرآباد سکھر موٹروے سندھ کے کے لیے تھا کہ
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار