آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرسے امریکہ اعلی سطحی وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرسے امریکہ اعلی سطحی وفد کی ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 9 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرسے امریکہ اعلی سطحی وفد کی ملاقات، آئی ایس پی آرکے مطابق امریکی وفد کی قیادت سینئیر بیورو آفیشل ایرک میئر نے کی ۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد کی قیادت جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے سینئر بیورو افسر ایرک میئر نے کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے وسیع معدنیات کی دولت کی ترقی کی پاکستان کی پالیسی پر اظہار اعتماد کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایرک میئر نے پاکستان کی بتدریج بہتر ہوتے سرمایہ کاری ماحول پر اظہار اطمینان کیا۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقین کو عالمی تبدیلیوں پر موقف شیئر کرنے کا موقع ملا اور پاکستان کی علاقائی سیکیورٹی ضروریات پر بات چیت بھی کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اظہار اعتماد کیا اور موجودہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور پی ٹو پی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفد کی
پڑھیں:
امریکی عدالت نے وائس آف امریکہ کی بندش رکوادی، ملازمین بحال
واشنگٹن :صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بارپھر خفگی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب امریکی عدالت نے ان کے ایک اور حکم نامے کو معطل کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک وفاقی جج نے وائس آف امریکہ کو بند کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عمل درآمد سے روک دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے فنڈنگ میں کٹوتیوں کے باعث وائس آف امریکہ اپنی 80 سالہ تاریخ میں پہلی بار خبر رسانی سے قاصر رہا۔
جج رائس لیمبرتھ نے کہا کہ حکومت نے وائس آف امریکہ کو بند کرنے کا اقدام ملازمین، صحافیوں اور دنیا بھر کے میڈیا صارفین پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا۔عدالت نے حکم دیا کہ وائس آف امریکہ، ریڈیو فری ایشیا اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس کے تمام ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ان کے پرانے عہدوں پر بحال کیا جائے۔
جج نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ان اقدامات کے ذریعے انٹرنیشنل براڈکاسٹنگ ایکٹ اور کانگریس کے فنڈز مختص کرنے کے اختیار کی خلاف ورزی کی۔
وائس آف امریکہ VOA کی وائٹ ہاوس بیورو چیف اور مقدمے میں مرکزی مدعی پیٹسی وداکوسوارا نے انصاف پر مبنی فیصلے پر عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وائس آف امریکہ کو غیر قانونی طور پر خاموش کرنے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، جب تک کہ ہم اپنے اصل مشن کی جانب واپس نہ آ جائیں۔
امریکی عدالت نے ٹرمپ حکومت کو حکم دیا ہے کہ ان اداروں کے تمام ملازمین کی نوکریوں اور فنڈنگ کو فوری طور پر بحال کرے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر وائس آف امریکہ سمیت دیگر اداروں کے 1,300 سے زائد ملازمین جن میں تقریباً 1,000 صحافی شامل تھے کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔وائٹ ہاوس نے ان اداروں پر ” ٹرمپ مخالف” اور “انتہا پسند” ہونے کا الزام لگایا تھا۔وائس آف امریکہ نے ریڈیو نشریات سے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے آغاز کیا تھا اور آج یہ دنیا بھر میں ایک اہم میڈیا ادارہ بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے VOA اور دیگر میڈیا اداروں پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں ٹرمپ نے اپنی سیاسی اتحادی کاری لیک کو VOA کا سربراہ مقرر کیا تھا جو ماضی میں 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ کے دھاندلی کے دعووں کی حمایت کر چکی ہیں۔