نہریں نکالنے کے کیخلاف قرارداد ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
نہریں نکالنے کے کیخلاف قرارداد ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کا احتجاج WhatsAppFacebookTwitter 0 10 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف قرارداد کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے احتجاج کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف ان کی جمع کرائی گئی قرارداد کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے 7 اپریل کو دریائے سندھ پر مجوزہ نہروں کی تعمیر کے خلاف قرارداد جمع کروائی تھی مگر اسے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)اور ایم کیو ایم نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی جبکہ تحریک انصاف کے اراکین نے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی۔شازیہ مری نے مسلم لیگ (ن)کے بعض صوبائی وزرا کو اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز بیانات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات نے صورتحال کو مزید بگاڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران عمران خان نے دریائے سندھ پر دو نہروں کی منظوری دی تھی، جس کی سندھ حکومت نے اس وقت بھی شدید مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہاکہ اگر آج تحریک انصاف اپنی پچھلی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پیپلز پارٹی کی قرارداد کی حمایت کرے۔
شازیہ مری نے واضح کیا کہ ہمیں دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف اکٹھے کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک میں پانی کی منصفانہ اور جائز تقسیم کے لیے جدوجہد کی ہے، ملک میں پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے تحت ہونی چاہئے۔شازیہ مری نے اس موقع پر یاد دہانی کروائی کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کالا باغ ڈیم جیسے متنازع منصوبوں کی مخالفت کی ہے، اور دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کو وفاق کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری دونوں نے ان تجاویز کی کھل کر مخالفت کی ہے۔شازیہ مری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گی اور عوام کے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایجنڈے میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :