Daily Ausaf:
2026-07-24@13:43:48 GMT

عازمینِ حج کیلئے اچھی خبر ،بڑی سہولت فراہم کردی گئی

اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT

متحدہ عرب امارات میں امسال عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 6 ریاستوں میں 52 طبی مراکز قائم کردیئے گئے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں میں امسال حج کے خواہشمندوں کو انفلوائنزا سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے اور ان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے دبئی کے علاوہ الفجیرہ، عجمان و دیگر ریاستوں میں مختلف مقامات پر طبی مراکز نے کام شروع کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عازمین حج کے لیے قائم کیے جانے والے طبی مراکز میں گردن توڑ بخار اور موسمی انفلوائنزا کی ویکسین دستیاب ہوگی۔علاوہ ازیں 65 برس سے زائد عمر کے عازمین یا مختلف نوعیت کے امراض میں مبتلا افراد کا طبی معائنہ کرکے ان کی جسمانی صحت کے مطابق انہیں طبی ہدایات سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

طبی ذرائع کے مطابق امسال فریضہ حج کے لیے جانے والے عازمین کو چاہیے کہ وہ سفرِ حج پر روانہ ہونے سے کافی دن قبل طبی مراکز کا وزٹ ضرور کرلیں، تاکہ ویکسینیشن کروا سکیں۔عازمین کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی ادویات بھی ہمراہ لے جائیں جو وہ یومیہ استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس سے قبل سعودی عرب میں وزارت حج و عمرہ نے خبردار کیا ہے کہ حج کے لیے غیر سرکاری اداروں سے کسی قسم کا لین دین ہرگز نہ کریں، مقامی عازمین بھی حج پیکیج کی بکنگ وزارت حج کی ویب سائٹ یا ’نسک‘ پورٹل سے کریں۔رپورٹ کے مطابق وزارت حج و عمرہ نے امسال فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مندوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ فرضی حج کمپنیوں سے ہوشیار رہیں۔

بیرون مملکت کے عازمین حج اپنے ملکوں کے سرکاری حج مشنز کے ذریعے ’حج ویزے‘ حاصل کریں جو کہ 80 ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ ایسے ممالک جہاں حج مشنز نہیں وہاں مقیم حج کے خواہشمند ’نسک حج‘ پورٹل کے ذریعے حج بکنگ کرائی جاسکتی ہے۔

وزارت کا اندرون مملکت سے عازمین حج کے حوالے خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سرکاری سطح پر جاری ہونے والے پیکیجز کے ذریعے حج بکنگ کی جائے جو کہ وزارت کی ویب سائٹ یا نسک پورٹل پر جاری کیے جاتے ہیں۔

وزارت نے تاکید کی ہے کہ سرکاری متعلقہ ادارے سے جاری ہونے والا حج پرمٹ ہی قابل قبول ہوگا جو وزارت کی ویب سائٹ یا پورٹل سے جاری کیا جاتا ہے۔ فرضی حج خدمات فراہم کرنے والے ادارے یا اس حوالے سے گمراہ کن اشتہارات سے محتاط رہیں۔

وزارت نے مصدقہ معلومات کے لیے متعدد زبانوں میں ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کی بنیاد پر انفارمیشن سینٹر کی سہولت فراہم کی ہے جس کے لیے اندرون مملکت سے ٹول فری نمبر 1966 جبکہ بیرون مملکت سے 00966920002814 پر رابطہ کر کے حاصل کی جاسکتی ہے علاوہ ازیں ای میل کی سہولت بھی عازمین کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: طبی مراکز کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار