ملک میں گرمی کی شدید لہر، محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے ملک میں گرمی کی شدید لہر کو دیکھتے ہوئے ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے ملک میں ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کردیا، آئندہ ہفتے کے دوران ملک میں گرمی کی شدید لہر آنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 13 اپریل سے ہوا کا زیادہ دباؤ اثر انداز ہوگا، پیر سے ملک کے جنوبی علاقے شدید گرمی کے زیر اثر ہونگے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان میں درجہ حرارت 6 سے 8 سینٹی گریڈ زیادہ رہنےکا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں درجہ حرارت 4 سے 6 سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر 13 سے 18 اپریل تک رہے گی، گرمی کی لہر کے باعث آندھی اور جھکڑ چلنے کا بھی امکان ہے۔
دوسری جانب موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن کے مطابق کراچی میں 19 یا 20 اپریل سے گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے جبکہ اس دوران درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد ہوسکتا ہے۔
جواد میمن نے بتایا کہ جنوبی علاقوں میں مون سون میں زائد بارشوں کی پیشگوئی ہے جب کہ کراچی سمیت سندھ میں معمول سے زائد بارشیں ہوسکتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:فضائی سفر میں ناقابلِ یقین واقعہ: دورانِ پرواز مسافر نے دوسرے مسافر پر پیشاب کر دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کا امکان ہے ملک میں گرمی کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔