اگر امریکہ چین کے حقوق اور مفادات کی سنگین خلاف ورزی جاری رکھتا تو چین بھرپور جوابی اقدامات کرے گا،چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
بیجنگ : امریکہ نے چینی مصنوعات پر عائد محصولات کو مزید بڑھا دیا۔چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے جمعہ کے روز کہا کہ چین امریکہ کی جانب یکطرفہ محصولات کی سختی سے مخالفت اور مذمت کرتا ہے اور چین نے اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور جوابی اقدامات اٹھائے ہیں۔چین اور دیگر ممالک کے دباؤ میں امریکہ نے کچھ تجارتی شراکت داروں پر بھاری محصولات کے نفاذ کو معطل کر دیا ہے، جو محض ایک علامتی چھوٹا سا قدم ہے اور اس سے امریکہ کی تجارتی بلیک میلنگ کے ذریعے ذاتی مفادات کی تلاش کی حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ نام نہاد “مساوی محصولات” کو ختم کرنے کے لئے ایک بڑا قدم اٹھائے اور اپنے غلط طریقوں کو مکمل طور پر درست کرے۔امریکہ کی جانب سے چین پر عائد کیے جانے والے حد سے زیادہ محصولاتی عدد اب کھیل بن چکا ہے اور ان کا کوئی عملی معاشی معنی نہیں ہے، جس سے امریکہ کی جانب سے محصولات کو ہتھیار بنانے، غنڈہ گردی اور جبر میں ملوث ہونے اور انہیں مذاق بنانے کے ہتھکنڈوں کو مزید بے نقاب کیا جائے گا۔ اگر امریکہ ٹیرف نمبروں کا کھیل کھیلنا جاری رکھتا ہے تو چین اسے نظر انداز کر دے گا۔ تاہم، اگر امریکہ چین کے حقوق اور مفادات کی خلاف ورزی جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے، تو چین بھرپور جوابی اقدامات کرے گا اور آخر تک اس کا مقابلہ کرے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔