جمعیت علمائے پاکستان کی زیر قیادت اسرائیل مردہ باد ریلی، عوام کا فلسطینی مظلومین سے اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
شرکائے ریلی سے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتا ہے، ہم کسی بھی قیمت پر اسرائیلی غاصبانہ تسلط کو تسلیم نہیں کرتے اور اقوامِ عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر جمعیت علمائے پاکستان کراچی کی جانب سے ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کا آغاز بلال مسجد، سیکٹر 4، نارتھ کراچی سے ہوا، جس کی قیادت جے یو پی کراچی کے نائب صدر مفتی محمد حفیظ اللہ ہادیہ نے کی۔ریلی میں جے یو پی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری ملک محمد شکیل قاسمی، قاری عبدالصمد چشتی، محمد مظہر نورانی، محمد اطہر نورانی، محمود علی سمیت متعدد ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات، علماء، کارکنان، طلبہ، عوام اور سیاسی و سماجی حلقوں سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے، جب کہ فضا اسرائیل مردہ باد اور فلسطین زندہ باد اور الجہاد الجہاد، لبیک لبیک کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد حفیظ اللہ ہادیہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم انسانیت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہیں، عالمی ضمیر اگر آج بھی خاموش رہا تو کل تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ملک محمد شکیل قاسمی نے کہا کہ پاکستانی عوام کا دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتا ہے، ہم کسی بھی قیمت پر اسرائیلی غاصبانہ تسلط کو تسلیم نہیں کرتے اور اقوامِ عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ قاری عبدالصمد چشتی، محمود علی و دیگر مقررین نے فلسطینی عوام کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سنجیدہ اور عملی کارروائیاں کریں اور اقوام متحدہ کو اپنی غیرجانبداری ثابت کرنے کا موقع فراہم کریں۔ ریلی پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آزادی کا سورج بیت المقدس پر طلوع ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک، بلکہ مجرمانہ غفلت ہے، نہتے فلسطینی مسلمانوں پر بمباری، بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا قتل عام اور انسانی بستیوں کا ملبے میں تبدیل ہو جانا ظلم و سفاکیت کی وہ مثالیں ہیں جن پر تاریخ ہمیشہ شرمندہ رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔