فواد خان کی حمایت؛ سشمیتاسین کا پاکستانی فلم میں کام کرنے کا بھی عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور سابق ملکہ حسن سشمیتا سین نے پاکستانی اداکار فواد خان کی بھارتی فلم میں کام کرنے کی حمایت کردی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فواد خان کے 9 سال کے بعد بھارتی فلموں میں واپسی کی خبروں نے بالی ووڈ میں ہلچل مچا دی۔
جہاں انتہاپسندوں نے فواد خان کے بھارتی فلم میں کام کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجہ اپنایا ہے۔
وہیں بھارتی اداکار فواد خان کی حمایت میں سامنے آنے لگے ہیں جس کی ابتدا سنی دیول نے کی اور پھر امیشا پٹیل نے بھی فواد خان کی حمایت کی۔
سشمیتا سین نے فواد خان کی بالی ووڈ میں واپسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فنون لطیفہ اور کھیل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
اداکارہ سشمیتاسین نے مزید کہا کہ تخلیقی کام آزاد ماحول میں پروان چڑھتا ہے اس لیے کھیل اور فنون لطیفہ پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
سشمیتا سین نے مزید کہا کہ اس لیے میں فواد خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کروں گی۔
جب اداکارہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستانی فلموں میں کام کریں گی تو انھوں نے برملہ کہا کہ میں ہمیشہ اچھی فلم میں کام کرنا چاہوں گی چاہے اس کی پیشکش کسی بھی ملک سے آئے۔
یاد رہے کہ فواد خان 9 سال بعد کسی بھارتی فلم میں جلوہ افروز ہوں گے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فلم میں کام فواد خان کی بھارتی فلم کی حمایت کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔