پی ٹی آئی والے 26 نومبر کی ٹھکائی کے بعد اب اسلام آباد نہیں آئیں گے، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
فوٹو: فائل
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے 26 نومبر کی ٹھکائی کے بعد اب اسلام آباد نہیں آئیں گے۔
جیو نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی جماعت یا گروہ کو نظام حکومت معطل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کسی کی ذات کی وجہ سے نہیں رکتے، امریکا کے ساتھ تعلقات پہلے کی طرح مضبوط اور قائم و دائم ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد بھی کئی وفود پاکستان آچکے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا کہ میں آج اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن میں گیا تھا، یہ وہ لوگ ہیں جوپاکستان کو پال رہے ہیں، سالانہ31 ارب ڈالر یہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ پہلے یہ فیصلہ تو کر لیں کہ پاؤں پڑنا ہے یا گریبان پکڑنا ہے، آپ تو پاؤں پڑے ہوئے ہیں کہ ہماری طرف منہ ہی کر کے کوئی دیکھ لے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں کوئی این آر او نہیں ہوگا، کوئی ریاست بلیک میل نہیں ہوگی۔ 9 مئی یا 26 نومبر کی طرح کسی کو ڈرامہ کرنے کا شوق ہے تو وہ کر کے دیکھ لے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جو لوگ دہشت گردوں کو لے کر آئے تھے وہ آج بھی شرمندہ نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔