ریونیو اسٹریم سوکھ چکی، بجٹ روپوں میں اور اخراجات ڈالرز میں ہیں، حنا ربانی کھر
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
سابق وزیر خارجہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سربراہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ہماری ریونیو اسٹریم سوکھ چکی، بجٹ روپوں میں اور اخراجات ڈالرز میں ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت حنا ربانی کھر کی، اجلاس کے شرکاء میں سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور وزارت کے سینئر افسران شامل تھے۔
سیکریٹری خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ اوورسیز پاکستانی کی ضروریات کے مطابق قونصلر سروسز کا جامع جائزہ لیا جارہا ہے۔
آمنہ بلوچ نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ کی تصدیق شدہ دستاویزات دوبارہ تصدیق کے بغیر قابل استعمال ہیں، آن لائن پاور آف اٹارنی کی تصدیق کی سہولت مشنز کی دیرینہ ضرورت تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر تصدیق شدہ دستاویز پر کیو آر کوڈ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے دستاویزات کی جانچ اب دنیا بھر میں آسان ہوگئی ہے۔
سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ سفارتی مشنز کے کرائے کی عمارات سے ملکیتی عمارات کی طرف منتقلی جاری ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے شرکاء کو بتایا کہ اوورسیز پاکستانی اب سفارتخانوں میں محدود خدمات کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکا نے جو ٹیرف لگایا ہے وہ ٹھوس معاشی اصولوں پر نہیں، یہ معاملات کو وزارت تجارت دیکھ رہی ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ پہلے یوکےاور امریکا کے پاسپورٹ ہولڈرز پاکستانیوں کو بغیر ویزہ ایک سال تک سعودی عرب میں رہنے کی سہولت تھی۔ اب اس سہولت کو معطل کیا گیا ہےکیونکہ لوگ اوور اسٹے کرتے تھے۔
حنا ربانی کھر نے اس موقع پر کہا کہ ہماری ریونیو اسٹریم سوکھ چکی ہے،بجٹ روپوں میں اور اخراجات ڈالرز میں ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکریٹری خارجہ نے حنا ربانی کھر کہا کہ
پڑھیں:
کراچی ، اسپتال کے اخراجات ادائیگی کیلئے نومولودکی فروخت کا انکشاف
ممین گوٹھ (اسٹاف رپورٹر)ڈاکٹر اور خاتون نے آپریشن کے اخراجات ادا کیے اور پھر بچے کو پنجاب فروخت کیا، بچہ بازیابی کے بعد والدین کے حوالےشہر قائد کے علاقے میمن گوٹھ میں اسپتال کے اخراجات ادا کرنے کیلیے نومولود کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا جسے خاتون نے خرید کر پنجاب میں کسی کو پیسوں کے عوض دے دیا تھا۔تفصیلات کے مطابق میمن گوٹھ میں قائم نجی اسپتال میں شمع نامی حاملہ خاتون ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کیلئے گئی تو وہاں پر ڈاکٹر نے زچگی آپریشن کیلئے رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔خاتون نے جب ڈاکٹر سے رقم نہ ہونے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون بچے کی خواہش مند ہے اور وہ بچے کو نہ صرف پالے گی بلکہ آپریشن کے اخراجات بھی ادا کردے گی۔
خاتون کے آپریشن کے بعد لڑکے کی پیدائش ہوئی جسے ڈاکٹر نے مذکورہ خاتون کے حوالے کیا جس پر والد سارنگ نے مقدمہ درج کروایا۔والد سارنگ نے مقدمے میں بتایا کہ وہ جامشورو کے علاقے نوری آباد کے جوکھیو گوٹھ کا رہائشی ہے۔ مدعی مقدمہ کے مطابق اہلیہ چند ماہ قبل حاملہ ہونے کے باوجود ناراض ہوکر والدین کے گھر چلی گئی تھی۔’پانچ اکتوبر کو اہلیہ اپنی والدہ کے ساتھ معائنے کیلیے کلینک گئی تو ڈاکٹر زہرا نے آپریشن تجویز کرتے ہوئے رقم ادائیگی کا مطالبہ کیا، رقم نہ ہونے پر ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ وہ ایک عورت کو جانتی ہیں جو غریبوں کی مدد کرتی اور غریب بچوں کو پالتی ہے‘۔
سارنگ کے مطابق ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ وہ عورت نہ صرف بچے کو پالے گی بلکہ آپریشن کے تمام اخراجات بھی ادا کردے گی، جس پر میری اہلیہ نے رضامندی ظاہر کی تو خاتون شمع بلوچ نے آکر اخراجات ادا کیے اور بچہ لے کر چلی گئی۔والد کے مطابق مجھے جب لڑکے کی پیدائش کا علم ہوا تو اسپتال پہنچا جہاں پر یہ ساری صورت حال سامنے آئی اور پھر اہلیہ نے شمع بلوچ نامی خاتون کا نمبر دیا تاہم متعدد بار فون کرنے کے باوجود کوئی رابطہ نہیں ہوا کیونکہ موبائل نمبر بند ہے۔
شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ مجھے شبہ ہے کہ شمع نامی خاتون نے میرا بچہ کسی اور کو فروخت کر دیا ہے لہذا قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے حوالے کیا۔اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کارروائی کرتے ہوئے پنجاب سے بچے کو بازیاب کروا کے والدین کے حوالے کردیا جبکہ اسپتال کو سیل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق شمع بلوچ اسپتال کی ملازمہ ہے اور اُس نے ڈاکٹر زہرا کے ساتھ ملکر یہ کام انجام دیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر زہرا اور شمع بلوچ کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے گئے ہیں تاہم کامیابی نہ مل سکی، دونوں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔