پاکستان کا دفاع محفوظ ہے، کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا:وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دفاع محفوظ ہے، کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور جو ایسا کرے گا اس آنکھ کو پاکستانی پاؤں تلے روند دیں گے۔اسلام آباد میں سمندر پار پاکستانیوں کے پہلے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ سے زائد پاکستانی مختلف ممالک میں مقیم ہیں اور انہوں نے وہاں شبانہ روز محنت سے اپنا، خاندان اور ملک کے لیے نام کمایا.
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو جہاد کیا اور جنگ لڑی.اس کی مثال عصر حاضر میں نہیں ملتی. آج پھر اسی تاریخ کو دہرایا جارہا ہے.کیا وجہ ہے کہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا اور دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی کہ اتنی بڑی دہشت گردی کی یلغار کو ختم کرنا آسان کام نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند سالوں میں فاش غلطیاں کی گئیں.سوات سمیت دیگر مقامات پر درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں لوگوں کو آباد کیا گیا. ماضی کی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا. بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے واقعات کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سمندر پار پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد سے جلد فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں جب کہ پنجاب میں بھی ایسی عدالتوں کے قیام کا عمل جاری ہے.اس سلسلے میں پنجاب میں قانون سازی ہوچکی ہے اور بلوچستان میں بھی بہت جلد یہ کام ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے شواہد کی ای ریکارڈنگ کی سہولت بہت جلد دی جائے گی. تاکہ آپ کو پاکستان نہ آنا پڑے اور مقدمات کی بھی ای فائلنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے.یہ کام انشااللہ 90 دن کے اندر مکمل ہوجائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی چارٹر یونیورسٹیز میں تمام سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں کے لیے 10 ہزار سیٹوں میں 5 فیصد کوٹہ فکس کیا جارہا ہے، اسی طرح سے وفاق میں ڈگری دینے والے اداروں میں 10 ہزار سیٹوں میں 5 فیصد کوٹہ آپ کے بچوں کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں کے لیے میڈکل کالجوں میں 15 فیصد کوٹہ رکھا جارہا ہے.اس فیصلے سے 3 ہزار بچوں کو میڈیکل کالجز میں پاکستان میں داخلہ مل سکے گا جب کہ کاروباری لین دین اور بینک کے معاملات میں سب کو فائلرز کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا، اس سے آپ کو ٹیکس ادائیگی میں بہت ریلیف ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی خواتین کے لیے جو پاکستان میں سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے عمر کی حد کو 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بے پناہ خدمات کے عوض ہر سال 14 اگست کو جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے. حکومت کی جانب سے انہیں سول ایوارڈ دیے جائیں گے۔مزید کہا کہ ان کے نام پاکستانی سفارت خانے، وزارت سیفران اور او پی ایف ملکر تجویز کریں گے. ہر سال 15 ایسے خواتین وحضرات جو اسٹیٹ بینک کے ذریعے ملک کو سب سے زیادہ فارن ایکسچینج بھیجیں گے ان کو سول ایوارڈز دیا کرے گی جب کہ میرپور میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا قیام عمل میں لایاجائےگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سمندر پار پاکستانیوں کے اوورسیز پاکستانی کوئی میلی آنکھ سے کے تانے بانے کہاں ان کا کہنا تھا کہ میں دہشت گردی کا پاکستان میں شہباز شریف پاکستان کا نہیں ملتی کررہے ہیں نے کہا کہ کے لیے جو جارہا ہے انہوں نے ملتے ہیں ہیں اور میں بھی ہیں ان
پڑھیں:
’اکیلا میسی کچھ نہیں کر سکتا‘، فٹبال لیجنڈ کا بیان
برازیل کے سابق اسٹار فٹبالر رونالڈو نازاریو نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف اسپین کی فتح کو ٹیم ورک کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک کھلاڑی میچ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
ہسپانوی اخبار سے گفتگو میں رونالڈو نے کہا کہ اگرچہ فائنل صرف ایک گول کے فرق سے ختم ہوا۔ تاہم، پورے میچ کے دوران اسپین کا مکمل غلبہ رہا۔
انہوں نے کہا کہ انہین زیادہ گولز کی توقع تھی لیکن وہ نہ ہو سکے، اس کے باوجود اسپین نے پورے مقابلے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا۔
رونالڈو کے مطابق ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی بھی اسپین کی اجتماعی کارکردگی کے سامنے فرق پیدا نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، اصل طاقت ٹیم اور مشترکہ کھیل میں ہوتی ہے۔
برازیل کے لیجنڈ نے ارجنٹینا کی فائنل تک رسائی کو سراہتے ہوئے اسپین کے کھیل کی بھی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کا اندازِ منفرد ہے اور مسلسل گیند پر کنٹرول ہی اس کی کامیابی کی بنیاد ہے۔
رونالڈو نے مزید کہا کہ اسپین نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اجتماعی کھیل اور گیند پر مسلسل قبضہ جدید فٹبال میں کامیابی کی کنجی ہے۔