پولیس نے یقین دہانی کرائی جمعرات کو ہماری بانی سے ملاقات ہو جائیگی، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
گورکھ پور ناکے سے واپس روانگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہمشیرا بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر جمعرات کو ملاقات کرا دی جاتی ہے تو ہم چلے جائیں گے، پولیس نے پہلے کبھی وعدہ نہیں کیا آج وعدہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ پولیس نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جمعرات کو ہماری بانی سے ملاقات ہوجائے گی۔ گورکھ پور ناکے سے واپس روانگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم نے کہا اگر جمعرات کو ملاقات کرا دی جاتی ہے تو ہم چلے جائیں گے، پولیس نے پہلے کبھی وعدہ نہیں کیا آج وعدہ کیا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم تو ان پر اعتبار ہی کرسکتے ہیں کہ یہ جمعرات کو ملاقات کرائیں گے، ایک مہینہ ہوگیا ہم اپنے بھائی سے نہیں ملیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کورٹ نے بھی کہا ہے بچوں سے بات کرائیں، ڈاکٹر کو بھی رسائی دیں، جمعرات کو سیاسی راہنماؤں کی ملاقات بھی کرائی جائے گی۔
علیمہ خان نے کہا کہ سیاسی راہنماؤں کی ملاقات 5 ماہ سے نہیں کرائی جارہی، ہم پولیس کی یقین دہانی پر اب واپس جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا ہے جتنے لوگ ملنا چاہتے ہیں ملیں، مسئلہ یہ ہے کہ جیل والے فہرست کے مطابق ملاقات نہیں کراتے، بانی پی ٹی آئی بار بار مطالبہ کرتے ہیں ان کی سیاسی راہنماؤں سے ملاقات کرائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا جمعرات کو نے کہا کہ پولیس نے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔