UrduPoint:
2026-06-02@23:28:48 GMT

روس: ناوالنی سے تعلقات پر ڈی ڈبلیو کے سابق صحافیوں کو جیل

اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT

روس: ناوالنی سے تعلقات پر ڈی ڈبلیو کے سابق صحافیوں کو جیل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اپریل 2025ء) ماسکو کی ایک عدالت نے منگل کے روز ڈی ڈبلیو کے دو سابق صحافیوں، کونسٹانٹن گابوف اور سیرگئی کاریلن، اور دو دیگر صحافیوں انٹونینا فاوورسکایا اور آرٹیوم کریگر کو انتہا پسندی کا مجرم قرار دے دیا۔ ان چاروں صحافیوں میں سے ہر ایک کو اس جرم کے باعث ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان پر روس کے اپوزیشن سیاست دان الیکسی ناوالنی کے ذریعے قائم کی گئی ایک تنظیم ’انسداد بدعنوانی فاؤنڈیشن‘ (ایف بی کے) کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، جسے ماسکو نے ایک ’’انتہا پسند تنظیم‘‘ کا درجہ دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ الیکسی ناوالنی فروری 2024 میں آرکٹک کی ایک جیل میں مشکوک حالات میں انتقال کر گئے تھے۔

(جاری ہے)

کونسٹانٹن گابوف اور سیرگئی کاریلن پہلے ڈی ڈبلیو کے ماسکو بیورو میں بطور صحافی کام کیا کرتے تھے۔

روس کی جیلوں میں قید امریکی شہری کون ہیں؟

سزا پانے والے چاروں صحافیوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مذکورہ فاؤنڈیشن کے لیے کام نہیں کیا بلکہ محض اس کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹنگ کی تھی۔

اس مقدمے کی سماعت بند دروازے والی ایک عدالت میں ہوئی، جو اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کا ایک حصہ ہے۔

فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد سے اس طرح کا کریک ڈاؤن غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔

پوٹن کے مد مقابل صدارتی امیدوار ایک جوان خاتون صحافی

ڈی ڈبلیو نے فیصلے کی مذمت کی

ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ نے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ روس ’’ایک بار پھر پوری طاقت سے یہی ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست ہے، جو قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرتی ہے۔

‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’روسی حکومت حقائق کو مسخ کرنے کے لیے اپنی طاقت کے ساتھ مہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور بہادر صحافیوں کے ساتھ سخت مجرموں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ہر وہ دن جو انٹونینا فاوورسکایا، کونسٹانٹن گابوف، سیرگئی کاریلن اور آرٹیوم کریگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار رہے ہیں، بہت زیادہ ہے۔ ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہم مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

‘‘

ان صحافیوں کو 2024 کے موسم بہار اور موسم گرما میں حراست میں لیا گیا تھا۔ مارچ میں فاوورسکایا، اپریل میں گابوف کو جبکہ جون میں کاریلن اور کریگر کو حراست میں لیا گیا تھا، تبھی سے وہ سب قید میں ہیں۔

جو بائیڈن کا روس کی جانب سے گرفتار کیے گئے صحافی کی رہائی کا مطالبہ

جیل کے غیر انسانی حالات

اپنے خطوط میں گابوف اور کاریلن نے ماسکو کی ماتروسکایا ٹشینا جیل کے خوفناک حالات کو بیان کیا ہے، جہاں انہیں اکتوبر کے اوائل میں منتقل کیا گیا تھا۔

گابوف نے لکھا تھا، ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجھے تہہ خانے میں کہیں رکھا گیا ہے۔ اوپر کی طرف بس ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا، ’’سیل میں بھیڑ ہے اور میں ایک لڑکے کے ساتھ فرش پر سوتا ہوں۔ وہ تو ایک مہینے سے اسی طرح یہاں رہ رہا ہے۔ دن کے وقت ہم ایک بینچ پر بیٹھتے ہیں (بغیر اس کے پشتی حصے کے) کیونکہ وہاں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

گدے، کمبل اور تکیے ختم ہو گئے اور پتہ چلا کہ ان میں کھٹمل ہیں۔ یہاں کا ماحول جابرانہ ہے۔‘‘

کاریلن نے لکھا کہ میٹروسکایا ٹشینا میں انہیں ایک بہت ہی بھرے ہوئے سیل میں رکھا گیا، جہاں آٹھ افراد کے لیے چار تختے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اگر سو بھی پاتے ہیں، تو بڑی مشکل سے۔ تختوں پر تو بالکل نہیں، جن کی سطح سیدھی اور بہت سخت ہے۔

‘‘

روس کے ایک سابق صحافی کو 22 برس قید کی سزا

اس وقت کاریلن کی وکیل نے حراست کے دوران ایسی صورتحال کو اذیت سے تعبیر کیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ ان حالات میں ان کا مؤکل مقدمے کی مکمل تیاری نہیں کر سکتا۔

فیصلے سے قبل کریگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک ’’ایماندار اور آزاد صحافی‘‘ کے طور پر اپنا کام کر رہے تھے۔

انہوں نے اس مقدمے کی سماعت کو ’’خالص پاگل پن‘‘ قرار دیا تھا۔ روس میں میڈیا کی آزادی دباؤ میں

عالمی پریس فریڈم انڈکس میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے روس کو 180 ممالک میں سے 162 ویں نمبر پر رکھا ہے اور کہا ہے کہ اس ملک میں میڈیا کی آزادی ’’عملی طور پر ناپید‘‘ ہے۔

اس ادارے کے مطابق صدر ولادیمیر پوٹن کے دور میں کم از کم 37 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا جا چکا ہے۔

ڈی ڈبلیو کا اظہار آزادی ایوارڈ، دو یوکرینی صحافیوں کے نام

چار فروری 2022 کو روس نے ڈی ڈبلیو کی نشریات پر پابندی لگا دی تھی اور ماسکو میں اس کے دفتر کو بھی بند کر دیا تھا جبکہ روسی انٹرنیٹ پر ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام کی تمام ذیلی ویب سائٹس کو بلاک کر دیا گیا تھا۔ البتہ ڈی ڈبلیو کی روسی سروس بالٹک کی جمہوریہ لیٹویا میں ریگا سے اپنا کام اب بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ص ز / م م (دمیترو ہوبینکو/ سیرگئی سیٹانووسکی)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈی ڈبلیو انہوں نے گیا تھا کے ساتھ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان