ماحولیات تحفظ اسکواڈ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
لاہور میں ماحولیاتی تحفظ فورس کی پاسنگ آوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام جس فضا میں سانس لیتے ہیں اسے صاف بنانا ہماری ترجیح ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی حکومت سے پہلے پنجاب اور پاکستان کی حالت ابتر تھی، ہم سے پہلے کی حکومت نے کام کیا ہوتا تو پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی۔ انہوں نے لاہور میں ماحولیاتی تحفظ فورس کی پاسنگ آوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام جس فضا میں سانس لیتے ہیں اسے صاف بنانا ہماری ترجیح ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی کوششوں سے منہگائی کم ہوتی جا رہی ہے، آٹے اور روٹی کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے آنے سے پہلے ڈیفالٹ کی باتیں تھیں، آج ملک ڈیفالٹ کرنے کی نہیں بلکہ اسٹاک کے اوپر جانے اور ریٹنگ بڑھنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ آج کوئی ڈیفالٹ کا نام نہیں لیتا، آج عالمی ادارے ملکی معیشت میں بہتری کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار پنجاب حکومت نے ماحولیات تحفظ پالیسی بنائی ہے، آلودگی سے بچاؤ کی تدبیر کرنا میرا خواب تھا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ ماحولیات تحفظ اسکواڈ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، قلیل عرصے میں ماحولیات تحفظ اسکواڈ کے قیام کا خواب پورا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارا ماحول بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، اسموگ کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں، عوام جس فضا میں سانس لیتے ہیں اسے صاف بنانا ہماری ترجیح ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مانیٹرنگ کی جا ئے گی، جو بھٹے آلودگی کا سبب بن رہے ہیں ان کا سدِ باب کرنا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماحولیات تحفظ کا کہنا ہے کہ مریم نواز
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔