پی ایس ایل؛ شاہین آفریدی کے بیٹے کی پہلی مرتبہ تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
کراچی:
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کراچی کنگز کے خلاف فتح کے بعد ایک دل چھو لینے والا منظر پیش کیا، جب وہ اپنے کم سن بیٹے علیار آفریدی کو گود میں لیے میدان میں نظر آئے۔
لاہور قلندرز نے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک ہائی اسکورنگ مقابلے کے دوران کراچی کنگز کو 65 رنز سے شکست دی تھی۔
میچ کے اختتام پر شاہین شاہ آفریدی کے بیٹے علیار کی جھلک پہلی بار عوامی طور پر سامنے آئی، جس نے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ شاہین اپنے بیٹے کو تھامے ہوئے ہیں جبکہ انکی اہلیہ اشنا بھی ساتھ موجود ہیں۔ اس دوران، کراچی کنگز کے بولر حسن علی بھی ننھے علیار کے ساتھ کھیلتے نظر آئے۔
اسی دوران اسٹینڈز میں سابق کپتان شاہد آفریدی کی دو بیٹیوں کو بھی دیکھا گیا، جو اہلِ خانہ کے ہمراہ میچ سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
واضح رہے کہ شاہین اس سے قبل علیار کی چند تصاویر تو شیئر کر چکے تھے لیکن ان میں ان کے چہرے کو پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ اس مرتبہ، فیملی نے پہلی بار کھلے عام خوشی کے یہ لمحات اسٹیڈیم میں منائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔