وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ قومی شناختی کارڈ نمبر اب میڈیکل ریکارڈ (ایم آر)نمبر کے طور پر کام کرے گا۔مصطفی کمال نے نادرا ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر سے اعلی سطح کی ملاقات کی۔ملاقات میں اعلان کیا گیا کہ ایک مریض، ایک شناخت وژن کے تحت مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کے لیے ایم آر نمبر کا نفاذ کر رہے ہیں جس سے پورے ملک میں کسی بھی وقت مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ قابلِ رسائی ہو گا۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان کے ہیلتھ سسٹم میں مریضوں کی میڈیکل ہسٹری کا جامع ڈیٹا موجود نہیں، جسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اب نادرا کے ڈیٹا بینک کی مدد سے جدید، موثر اور مربوط ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم قائم کیا جائے گا، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے طبی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔مصطفی کمال نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتی نظام سے نکل کر ڈیجیٹل ہیلتھ کو اپنائیں تاکہ معیاری اور پائیدار علاج ہر فرد کو میسر ہو، اس سلسلے میں ملک کا سب سے بڑا اور محفوظ ترین شہری ڈیٹا بیس نادرا نئے ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک مریض، ایک شناخت وژن کے تحت پورے ملک میں ایک ایم آر نمبر نافذ کرنے جا رہے ہیں اور اب قومی شناختی کارڈ نمبر ہی ایم آر نمبر ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایم آر نمبر مصطفی کمال

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی