اب وقت آ گیا کہ ہم روایتی نظام سے نکل کر ڈیجیٹل ہیلتھ کو اپنائیں:مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ قومی شناختی کارڈ نمبر اب میڈیکل ریکارڈ (ایم آر)نمبر کے طور پر کام کرے گا۔مصطفی کمال نے نادرا ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر سے اعلی سطح کی ملاقات کی۔ملاقات میں اعلان کیا گیا کہ ایک مریض، ایک شناخت وژن کے تحت مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کے لیے ایم آر نمبر کا نفاذ کر رہے ہیں جس سے پورے ملک میں کسی بھی وقت مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ قابلِ رسائی ہو گا۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان کے ہیلتھ سسٹم میں مریضوں کی میڈیکل ہسٹری کا جامع ڈیٹا موجود نہیں، جسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اب نادرا کے ڈیٹا بینک کی مدد سے جدید، موثر اور مربوط ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم قائم کیا جائے گا، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے طبی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔مصطفی کمال نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتی نظام سے نکل کر ڈیجیٹل ہیلتھ کو اپنائیں تاکہ معیاری اور پائیدار علاج ہر فرد کو میسر ہو، اس سلسلے میں ملک کا سب سے بڑا اور محفوظ ترین شہری ڈیٹا بیس نادرا نئے ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک مریض، ایک شناخت وژن کے تحت پورے ملک میں ایک ایم آر نمبر نافذ کرنے جا رہے ہیں اور اب قومی شناختی کارڈ نمبر ہی ایم آر نمبر ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایم آر نمبر مصطفی کمال
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔