سندھ میں مقررہ ہدف سے 49 فیصد کم ٹیکس وصولی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
بورڈ آف ریونیو نے 71 فیصد، ایکسائز نے 39 فیصد اور سندھ ریونیو بورڈ نے 51 فیصد کم ٹیکس وصول کیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے 8 ماہ میں ہدف 4 کھرب 33 ارب روپے تھا جس کے مقابلے میں 2 کھرب 25 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ میں مقررہ ہدف سے 49 فیصد کم ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے، رواں مالی سال کے 8 ماہ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 6 کھرب 14 ارب 55 کروڑ روپے تھا جبکہ صرف 3 کھرب 11 ارب 4 کروڑ ہی وصول کیے جاسکے۔ تفصیلات کے مطابق ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار کے مطابق بورڈ آف ریونیو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور سندھ ریونیو بورڈ نے نصف ہدف حاصل کیا، تینوں محکموں نے 3 کھرب 3 کروڑ روپے کم وصول کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق بورڈ آف ریونیو کا ہدف 60 ارب 70 کروڑ روپے تھا مگر17 ارب 43 کروڑ روپے وصول کیے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ہدف 2 کھرب 3 ارب تھا جس کے بجائے محکمے نے ایک کھرب 23 ارب روپے وصول کیے۔ اسی طرح سندھ ریونیو بورڈ کا ریونیو کا ہدف 3 کھرب 50 ارب روپے تھا، جس کے بجائے ایک کھرب 69 ارب 76 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ بورڈ آف ریونیو نے 71 فیصد، ایکسائز نے 39 فیصد اور سندھ ریونیو بورڈ نے 51 فیصد کم ٹیکس وصول کیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے 8 ماہ میں ہدف 4 کھرب 33 ارب روپے تھا جس کے مقابلے میں 2 کھرب 25 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصد کم ٹیکس وصول سندھ ریونیو بورڈ بورڈ آف ریونیو روپے وصول کیے کروڑ روپے ارب روپے روپے تھا کا ہدف
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔