ڈیرہ اسماعیل خان، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 خوارج ہلاک، ایک اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 16 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے مدی میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ اسلام ٹائمز۔ سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 16 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے مدی میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں 4 خوارج واصل جہنم ہو گئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خوارج سے شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک دھرتی کے ایک بہادر سپوت سپاہی باسط صدیق نے جواں مردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
مزید بتایا گیا کہ مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا،ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے آئی ایس پی آر ڈیرہ اسماعیل گیا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔