ٹرمپ کا بڑا یوٹرن؟ ایران پر اسرائیلی حملہ روکنے کی خبروں پر اہم بیان
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ پر ردعمل دے دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔
معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے جواب میں کہا، ’’یہ نہیں کہوں گا کہ حملہ منسوخ کر دیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی کارروائی کی جلدی نہیں، کیونکہ میرا پہلا آپشن ہمیشہ مذاکرات ہوتا ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس ایک عظیم ملک بننے کا موقع ہے، اور اگر دوسرے آپشن (فوجی کارروائی) کی طرف جانا پڑا تو وہ ایران کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے مئی میں ایران کے جوہری مراکز پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے پیچھے دھکیلا جا سکے۔ اس حملے کے لیے امریکہ کی مدد ضروری سمجھی گئی تاکہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکا جا سکے۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے مقام کی تبدیلی کو ’’پیشہ ورانہ غلطی‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام نیک نیتی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔