بابراعظم کو کراچی کنگز نے کِس اختلاف پر ریلیز کیا؟ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے بابراعظم کو ریلیز کرنے وجہ بتادی۔
ایک پروگرام کے دوران پی ایس ایل کی سابق چیمپئین ٹیم کے اونر سلمان اقبال نے انکشاف کیا کہ کراچی کنگز کی فرنچائز بابراعظم کو نمبر 3 کھلانا چاہتی تھی، جس پر اختلاف ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ بابراعظم کو نمبر 3 بیٹر کے طور پر پلئینگ الیون میں شامل جائے گا تاہم وہ اس پوزیشن پر کھیلنے کو تیار نہیں تھے۔
سلمان اقبال نے کہا کہ بابراعظم اگر نمبر 3 پر کھیلنے کو تیار ہوجاتے تو وہ آج بھی کراچی کنگز کے اسکواڈ کا حصہ ہوتے تاہم اختلاف کی وجہ سے ہمیں انہیں ریلیز کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ بابراعظم ملک اور فرنچائز دونوں کیلئے ٹی20 کرکٹ میں بطور اوپنر ہی کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، پی ایس ایل میں انہوں نے 76 اننگز میں اوپننگ کی، اس دوران 47.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بابراعظم کو کراچی کنگز پی ایس ایل
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔