پی ایس ایل کا راکٹ مین بمقابلہ آئی پی ایل کا روبوٹک کُتا ، کون بہتر؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن میں راکٹ مین کی دھوم کے باعث انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے منتظمین کو مقابلے کیلئے روبوٹک کُتا میدان پر اُترانا پڑگیا۔
پی ایس ایل کے رواں ایڈیشن کے افتتاحی میچ اور رنگا تقریب میں راکٹ مین نے گراؤنڈ اسٹاف کو ہوا اُڑنے کا شاندار کرتب دیکھا گیا جس نے دنیا بھر کے منتظمین کی نگاہیں اپنی طرف متوجہ کرلیں۔
پاکستانی لیگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے آئی پی ایل منتظمین کو گزشتہ روز آئی پی ایل میچ کے دوران روبوٹک کُتا میدان پر اُترانا پڑگیا تاکہ اپنی ٹیکنالوجی کا بھرم دیکھا سکے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل بمقابلہ آئی پی ایل؛ وارنر کی تنخواہ میں کتنا فرق ہے؟
تاہم آئی پی ایل منتظمین کے اسٹنٹ کو پاکستان کی کاپی قرار دیا جارہا ہے، کئی صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیگ کا موازنہ کرنا بھی شروع کردیا ہے کہ کون سی لیگ زیادہ بہتر ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل بمقابلہ آئی پی ایل؛ انعامی رقم کی تفصیلات نے ہوش اُڑا دیے
روبوٹک کُتے نے بھی میچ کے آغاز سے قبل پی ایس ایل کے راکٹ مین کی طرح ٹاس کوائن کپتان کے سپرد کیا، جسے پی ایس ایل کی کاپی قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب؛ دلکش تصاویر وائرل، راکٹ مین کے چرچے
واضح رہے کہ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن میں راکٹ مین کو متعارف کروانے پر بورڈ کو دنیا بھر سے خوب پذیرائی ملی تھی جبکہ اسکے برعکس بھارتی اپنے ہی بورڈ کو اس اقدام پر آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل پی ایس ایل راکٹ مین روبوٹک ک
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔